بھٹکل،5؍ ستمبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کالجیم نے کرناٹکا ہائی کورٹ جج کے بطور تقرر کے لئے تیسری مرتبہ بھٹکل کے ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کی سفارش کی ہے ۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2019 میں سپریم کورٹ کالجیم نے ہائی کورٹ جج کے بطور جن 8 وکیلوں کے نام پیش کیے تھے اس میں بھٹکل سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا نام بھی شامل تھا ۔ مگر مرکزی حکومت نے اس فہرست میں سے صرف ناگیندرا نائک کے نام کو ہی نظر انداز کردیا تھا ۔ پھر دوسری مرتبہ کالجیم نے مارچ 2021 میں ناگیندرا نائک کو ہائی کورٹ جج کا عہدہ دینے کی سفارش مرکزی حکومت سے کی تھی ۔ اس مرتبہ بھی حکومت نے اسے نظر انداز کردیا ۔ اس دوران 24 اپریل 2021 کو ایک جج کے تقرر پر دوبارہ غور کرنے کے بعد ناگیندرا نائک سمیت 6 وکیلوں کو 4 ہفتے کے اندر جج کے منصب پر فائز کرنے کا حکم دیا تھا ۔ مگر اس مرتبہ بھی مرکزی حکومت نے ان 6 وکیلوں میں سے بھٹکل کے ناگیندرا نائک اور کیرالہ کے کے کے پال کے نام نظر انداز کر دئے ۔
پتہ چلا ہے کہ یکم ستمبر کو نئے ججس کے تقرر کی جو سفارش بھیجی گئی ہے اس میں پھر سے ناگیندرا نائک کا نام شامل رکھا گیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی حکومت اس دفعہ کالجییم کی سفارش کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ۔
ناگیندرا نائک نے انجمن کالج بھٹکل سے گریجویشن کیا اور پھر بنگلورو سے ایل ایل بی کیا ہے ۔ وہ گزشتہ 28 برس سے ہائی کورٹ میں وکالت کر رہے ہیں ۔ اگر مرکزی حکومت اس بار سفارش قبول کرتی ہے تو ناگیندرا نائک ہائی کورٹ جج کے عہدے تک پہنچنے والے بھٹکل کے پہلے وکیل بنیں گے ۔ اس لئے بھٹکل اور ضلع میں ان کے چاہنے والوں کی نظریں مرکزی حکومت کے فیصلہ پر ٹکی ہوئی ہیں۔